اردوستان >> کتاب >> اللہ میاں کے مھمان : اعجاز عبید


some description here

دو لفظ اور


جی ہاں۔ ہم نے١٩٩٧ءمیں حج کیا تھا اور ان سات برسوں میں ہم خود بھی اس وقوعےکو بھولنےلگےتھی۔ احباب میں گفتگو ہوتی کہ اس سال فلاں صاحب حج کےلئےجا رہےہیں، اور فلاں صاحب تو ابھی عمرہ کر کےلوٹےہیں۔ اور پھر پلٹ کر ہم سےپوچھا جاتا ’آپ نےبھی تو شاید حج کیا ہی؟‘۔ سات برس کا عرصہ قوموں کی زندگی میں بےشک کچھ نہیں (اگرچہ ہمارےملک ہندوستان میں ہر پانچ سال بلکہ اکثر اس سےپہلےہی انقلابات آتےرہتےہیں) مگر ہم کم تر مرنےوالوں (دیکھیں کر دےکوئی Lesser Mortal کا اس سےبڑھ کر ترجمہ!) کےلئے عرصہءطویل ہی۔ ارےصاحب،وقت تو ایسےگزرتا ہےکہ نو بیاہتا جوڑا جس کی مثال عدد ’ ٢٦‘ کی ہوتی ہی، اس عدد میں ٦ سال میںہی چھہ گنا کا اضافہ ہو جاتا ہی۔(حساب میں کمزور ہیں؟ ٦ ×٦=٣٦، ٢٦+٣٦=٦٢) خیر، ان سات برسوں میں جب ہم خود بھی بھولنےلگےتھےتو ہم نےپچھلےماہ ہی یہ ماہیا کہا:
لو سات برس بیتی
اب اپنےقصّی
کبھی کوئی کہےنہ سنی

اس کتاب کی صورت تو یہ رہی کہ ہم نےجب اس کو چھپوانے کیےلئے ایک ادبی اشاعت گھر سےبات کی تو انھوں نےمشورہ دیا کہ یہ تو دینی کتاب ہی، اسےکسی دینی مکتبےکو دیجئی۔ اور جب ہم نےدینی مکتبےکو یہ کتاب بھیجی تو انھوں نےکہا کہ ’جناب، یہ تو مزاح کی کتاب ہی، دین سےاس کا کیا مطلب؟ اور یہ کہ ہمارےپاس تو اس کتاب کےعنوان پر ہی فتوےصادر ہو جائیں گی۔‘
زاہدِ تنگ نظر نےمجھےکافر جانا
اورکافریہ سمجھتا ہےمسلمان ہوں میں
اللہ بخشے’اردوستان‘ والوں کو کہ انھوں نے اس قصّےکو سنانےکا انتظام کیا ہےتو ہم نےسوچا کہ ’پس و پیشِ لفظ‘ سےپہلےہم یہ کچھ لفظ اور پیش کر دیں۔ تاکہ اردوستان کےملاقاتی (انٹر نیٹ پر قاری یا سامع کہاں ؟) ہوشیار ہو جائیں کہ کیا پڑھنےجا رہےہیں۔ پسند کریں یا نہ کریں ہمارےلئے دعائےخیر ضرور کریں۔
اعجاز عبید
حیدرآباد( ہند)۔١٨ جولائی ٢٠٠٤ئ

Post Your Comments on this Mazmoon