وینا ملک کے ستارے
سنا ہے جب ستاروں کے ستارے الٹی چال شروع کرتے ہیں تو زیادہ گڑبڑ ہو جاتی ہے، عام آدمی کے اول تو ستارے نہیں ہوتے اور اگر ہوتے ہیں تو اتنے دھندے ہوتے ہیں ، نظر ہی نہیں آتے کیونکہ وہ خود تاریکی میں رہتے ہیں۔ لیکن جب فلمی ستاروں کے ستارے غلط چال چلنے لگتے ہیں تو ایک زمانے کو علم ہو جاتا ہے، ان دنوں وینا ملک کے ستارے کچھ اچھے موڈ میںنہیں ہیں۔ مخالفین کا خیال ہے یہ سب ہمارا کیا دھرا ہے جب سے وینا ملک نے ہندوستان کا رخ کیا ہم نے ان کی طرف سے اپنا رخ موڑ لیا، وہ ٹیلی ویژن کا ایک پروگرام کرتی تھیں اس میں ان کی اداکاری نہایت عمدہ ہوتی، نہ جانے کیوں وہ اس شو سے علیحدہ ہوگئیں۔ ہم نے بھی پروگرام دیکھنا بند کر دیا، بس وینا ملک کے ستارے دھندے ہونے لگے پھر ان کی منگنی جھگڑوں کی خبریں ٹیلی ویژن پر آنے لگیں، اچانک وہ ہندوستان کے ایک رئیلٹی شو میں چلی گئیں، وہاں انہوں نے جو کچھ کیا وہ ہمیں اچھا نہیں لگا اوروں کو بھی بُرا لگا جب یہ معلوم ہوا کہ ان کا پاکستانی شناختی کارڈ گم ہوگیا تو ہم نے بھی انہیں اپنی فہرست سے گم کر دیا لیکن پاکستانی قوم ڈنڈالے کر وینا ملک کے پیچھے پڑ گئی۔
وینا ملک نے ہندوستانی رئیلٹی شو میں جو کچھ کیا وہ اس لئے تھا کہ وہ دوستی کا پل تعمیر کر سکیں وینا ملک کا یہ جذبہ قومی اور عالمی سطح پر امن قائم کرنے کے لئے بڑا کام تھا، ہمارا خیال تھا جلد ہی وہ ہندوستان کی کسی فلم میں آئٹم نمبر کرتی نظر آئیں گی لیکن قسمت کے ستاروں کو کیا کہیں کہ کمند وہاں ٹوٹی جب منزل دو ہاتھ رہ گئی تھی۔
ہندوستان کے ایک ہدایت کار مہیش بھٹ جو پاکستانی فنکاروں کو اپنی فلموں میں کاسٹ کرنے کے لئے مشہور ہیں انہیں شدت تنظیم شیوسینا نے دھمکی دی ہے کہ وہ پاکستانی فنکاروں کو فلموں میں لینا بند کر دیں، ورنہ سنگین نتائج کے لئے تیار رہیں۔
پاکستان کے صف اول کے ڈائریکٹر سید نور نے اس بیان کے بعد کہا ہے کہ اپنے قومی وقار اور عزت کا خیال کریں اور ہندوستانی فلموں میں کام نہ کریں۔
پاکستان فلم آرٹسٹ ایسوسی ایشن کے صدر مصطفی قریشی نے کہا ہے کہ وینا ملک جیسے آرٹسٹ ملک کی عزت کو داﺅ پر نہ لگائیں اور ہندوستان کی کسی فلم میں کام نہ کریں، ہندوستان کے ایک انگریزی اخبار نے لکھا ہے بھارتی فلمیں پاکستان میں ہندو کلچر کو فروغ دینے کا کام کر رہی ہیں۔
سید نور اور مصطفی قریشی سے ہمیں اتنا ہی کہنا ہے©’یوٹو بروئس‘ وینا ملک کتنا بڑا کام کرنے جا رہی تھیں اور سنا تھا حسب معمول مہیش بھٹ فلموں کے لئے انہیں گود لے رہے تھے اور انہیں شیوسینا نے دھمکی دے دی، یہ ان کے ملک کا مسئلہ ہے، پاکستان کے سمجھدار ذہین باصلاحیت فنکاروں کو وینا ملک کے خلاف بیان نہیں دینا چاہیے اس سے مہیش بھٹ کی ہمت ٹوٹ گی اور وہ وینا ملک کو اپنی کسی فلم میں آئٹم نمبر نہیں دے سکیں گے۔ یہ ایک ہدایت کار اور فنکار کا لمیہ نہیں، پاکستان ہندوستان دوستی اور امن کی آشا کے مستقبل کا سوال ہے۔
پاکستان کی ایک فلمی اداکارہ میرا پہلے مہیش بھٹ کی فلموں میں غضب ڈھا چکی ہیں ان کی وجہ سے ہندوستان سے اچھے مراسم قائم ہوگئے تھے اتنے کہ وہ دریاﺅں کا پانی روکنے لگا اور پاکستانی پیار کی بانسری بجاتے رہے۔
فلمسٹار میرا جب ایک کے بعد ایک فلمیں قبول کر رہی تھیں اور اپنی اداکاری کت جوہر سے دیکھنے والوں کی نیندیں اڑا رہی تھیں، اس وقت سن جپ تھے، احتجاج بھی تھا تو دبا دبا عام طور سے روایتی سے بیانات آتے تھے لیکن وینا ملک کا نمبر آیا تو ہر طرف سے شور مچ گیا۔
وینا ملک جب ہندوستان رئیلٹی شو کرنے گئیں تو شدت پسند تنظیم شیوسینا نے اس وقت بھی ہنگامہ کیا تھا لیکن اس کی ایک نہ چلی اور وینا ملک وہ کرتی رہیں جو ان کا جی چاہا، لیکن اب وہ کامیابی کا زینہ چڑھنے لگیں ٹی وی سے نکل کر فلم میں داخل ہونے لگیں، ایک زمانہ ان کا مخالف ہوگیا، یہ دراصل دوستی امن سلامتی اور خوسحالی کی مخالفت ہے اگر وینا ملک ہندوستانی فلموں میں کام نہیں کریں گی تو وہ ہالی ووڈ آجائیں گی اور اپنے جوہر انگریزی فلم میں دکھائیں گی ایک کی جگہ لاکھ کمائیں گی لیکن پاکستان ہندوستان کی دوستی سے محروم رہ جائے گا۔ ہمیں تو مہیش بھٹ سے بھی ہمدردی ہے، وہ جو پاکستانی پری چہرہ کے گارڈ فادر کہلاتے تھے وینا ملک کو بک نہیں کریں گے تو نہ گارڈ رہیں گے نہ فادر، ان کے لئے خود یہ صدمہ ناقابل برداشت ہوگا۔
امریکہ جو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اسے وینا ملک کے معاملے میں مداخلت کرنے چاہیے ہندوستانی حکومت سے کہے وہ شیوسینا کو لگام دیں، مہیش بھٹ کو سیکورٹی فراہم کریں تا کہ وہ وینا ملک کو اپنی کسی فلم میں آئٹم نمبر دے سکیں اور دو ملکوں کے درمیان دوستی قائم ہو جائے۔



Comments
nice
bohat khub hay