جانب چل دی‘ جہاں اُس کی ڈیوٹی تھی۔ وہ قدرے دھیمے قدموں سے جا رہی تھی کہ اچانک اُس کی نگاہ ایک طرف لان میں کھڑے جنید پر پڑی جو سیل فون پر کسی سے باتیں کر رہا تھا۔ راحیلہ کو یوں لگا جیسے کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو‘ اچانک ملنے والی خوشی کا احساس معمول سے زیادہ ہوتا ہے۔ وہ کھڑی ہو کر اُسے باتیں کرتا ہوا دیکھتی رہی ‘ پھر اُس کی جانب بڑھ گئی۔ وہ لان سے باہر کھڑی تھی جبکہ جنید روشنی کے پول تلے کھڑا تھا۔ وہ بات کر چکا تو اُس کی نگاہ راحیلہ پر پڑی جو اُس کی جانب پوری یکسوئی سے دیکھ رہی تھی۔ وہ اُسے پہلی نگاہ ہی میں پہچان گیا تھا اِسی لیے وہ آگے بڑھا اور قریب آکر بولا۔
Recent comments
1 year 10 weeks ago
1 year 12 weeks ago